Thursday, December 14, 2006

My Horoscope

Rising Sign: Sagittarius

You are apt to see the world from an extreme perspective and it may be hard for you to find a middle ground on which to stand. Be careful of having such a black and white mentality about things that you pigeonhole yourself into an uncomfortable position that you can't get out of. More than likely, your place of retreat will be your home. Today's square between Pluto and the Moon indicates that your home will be of much greater importance to you today than usual.
You might feel as if you're carrying a ten-ton weight around your neck. It could well appear that tasks, which normally take you ten minutes, are now taking an hour. Some you might have to do over until you get them right. This is a drag, farzana, but it probably won't last past today. Do whatever it takes to get the most important chores done today, then leave the rest until tomorrow. You'll be in a better space then.
Week of December 11, 2006:
You are the center of the party and the golden one that shines like the sun. Each joke and every drop of humor that rolls from your lips will be well-received and greeted with peals of laughter. Wherever you are, there has got to be a party going on. Yes, you really are having that effect upon others. Your charisma and optimism is particularly well-received at this time of year, when some people have to work really hard to feel even remotely festive. You can bet that you are going to be the life and soul of any social event that is going on. You are the one who is not only willing to share, but who will also receive many new opportunities as a result of your willingness to reach out to others. Friday may bring a few tensions your way, but nothing that you can't handle. If you really want to relax, then a massage would do you a world of good at this time. If the family starts getting on your nerves, get out and get some exercise. You'll feel so much better. Saturday is more productive and down to earth. You will suddenly get into gear and achieve more in one day than you have in a week.
Horoscope for this month
This month, Sagittarius, a powerhouse of planets will be traveling through your sign. Be ready for variety, excitement, and a few surprises. The first few days may be somewhat trying, though. It will seem as if events are working against you, and you may have to face the results of some your past indiscretions. By December 7, you should feel more positive and passionate about life. Over the next few weeks, you can reach for the stars. Start with identifying what you want and then make a practical plan for reaching your goals. By December 11, when Mars conjuncts Jupiter in your sign, take action and charge ahead. Minor setbacks the next day are only temporary. Social commitments on December 13 and 14 will be interesting but distracting. Doubts about your goals will crop up on December 15, but by the next day you should be able to realistically continue to meet them. Your powers of perception will be strong on December 18, and you can clearly understand the motives of others and use this to your advantage. This week your creative ability will be heightened. A New Moon in Sagittarius will herald a positive, confident attitude. On December 23, you'll get some unique advice to take you in a new direction. Throughout the holidays, you will be able to persuade others to help you and will understand situations more clearly. However, on December 26, you may have to avoid making important decisions. High energy and hard work on December 28 will make you a winner.

Translations of Few Poems by Parveen Shakir

Petal to petal, spore to spore
Rumors of love, spread, door to door
Like the sweet scent, of a blooming rose
He courted me, ever so slow
How can I say
he has left me He is here
no more The infamy of this truth
I cannot ignore
Wherever he went
he returned He came back to me
His fickle virtue is enough
To keep me happy
May, he, be in your arms
The one, you adore May
the night of separation
Never knock on your door
As he lay his healing palm
On my torrid brow
A feeling of rejuvenation
Reached deep into my soul

Thursday, October 12, 2006

A Telephone

''ایک فون''
ہیلو، ہاں، میں بول رہی ہوں۔۔رضیہ کی بچی، آج اتنے دنوں بعد فون کیا ہے۔۔۔
تیری ہنسی سے پہچان پائی ہوں۔۔بکواس مت کر۔۔۔بہت کنجوس ہوتی جا رہی
ہے۔۔ارے جا ، میں کیوں بتاؤں۔۔۔۔۔ہیں؟ کیا کہا؟۔۔۔۔خود کیوں نہیں آیا جاتا۔۔۔میں کیوں
بتاؤں ناصرہ کی باتیں۔۔۔۔بڑی چالاک ہو تم۔۔۔۔تمام باتیں سن کر چار سے ضرب دے کر
آگے بڑھا دوگی اور میرا نام روایت کے طور پر ہراول دستے کی طرح آگے بڑھتا
جائے گا۔۔۔۔پہلے بھی تم نے لوگوں کے ساتھ میرے تعلقات خراب کروائے تھے۔۔۔۔اب
بھوری خالہ صرف تمہاری وجہ سے مجھے چائے تک کو نہیں پوچھتیں۔۔۔۔چلو
پہلے میری جان کی قسم کھاؤ اور منگیتر کی بھی قسم کھاؤ۔۔۔۔ ہاں سنو، ناصرہ بیگم
عید پر ہمارے گھر آئی تھیں، جامنی سوٹ پر ستاروں سے بنی تتلی سینے پر پنکھ
پھیلائے جانے اڑ رہی تھی یا اڑ چکی تھی کہ ان کی نظریں بار بار اپنی شرٹ کی
تتلی پر ہی پڑ رہی تھیں
دوپٹےموتئے کی بیلیں جو سفید ستاروں سے بنی ہوئی تھیں دوپٹے پر آڑی آڑی
ڈلی ہوئی تھیں،کمر پر بھی دو چار بڑے بڑے ستارے ٹنکے ہوئے تھے،
بڑے عرصے بعد ان کو یوں سجا بنا دیکھا،تھوڑا سا کریدا تو معلوم ہوا کہ آجکل
اپنے بیٹے کے لئے لڑکی دیکھنے کے مشن پر ہیں، اب کون ان سے کہتا کہ آجکل
کی لڑکیاں چھمک چھلو ٹائپ کی ساس کو کہاں پسند کرتی ہیں بڑی
ممانی کی لڑکیاں ان سے خاصے چھچھورے مذاق کر رہی تھیں۔ کہہ رہی تھیں کھ
مجھے ہنسنے بولنے والی لڑکیاں اچھی لگتی ہیں، ہیلو، تم ہنس رہی ہو؟
آواز کیسی ہوگئی ہے تمہاری؟ہاں ہاں ،مجھے بھی بہت ہنسی آئی تھی کہ اگر ایسی
ہنسنے بولنے والی ایک بھی ان کے گھر بہو کے روپ میں آجائے تو ان کا سارا
گھرانا ہنسنا بولنا بھول جائے گا۔۔۔ ہیلو،اے پھر ہنس رہی ہو تم ،کیا نزلہ ہوگیا ہے؟
یا پھر آواز خراب ہے تمہاری؟ تم نے سنا کہ چھمو کی بھی منگنی ہوگئی ہے
ہمارے ہاں تو لڈو بھی آئے تھے، لڈو دیکھ کر اندازہ ہورہا ہے کہ لڑکے کی مالی
حالت نہ صرف خراب ہے بلکہ وہ چال چلن کا بھی اچھا نہیں ہے،اے لڈوؤں میں
سےعجیب سی بھبھک آرہی تھی،لگ رہا تھا کہ سستے کے چکر میں سڑے ہوئے
لڈو خرید لئے گئے،موٹی خالہ کی ساس کہہ رہی تھیں کہ جاڑوں میں مٹھائی کبھی
نہیں سڑتی، وہ ہر چیز کھانے کے چکر میں ہر وقت رہتی ہیں نا، ہیلو، رضیہ، سب
سے اہم خبر تو سن لو، پرویز کی دلہن کا اس پکی عمر میں پیر بھاری ہوگیا ہے،
ان کی بہو تو فون کر کے یہ اطلاع سب جگہ بانٹ رہی ہے، بھئی بہوؤں کا پہلا کام
تو مذاق اڑانا ہوتا ہے نا، اچھی بہوئیں کس کو ملتی ہیں؟کہاں رہتی ہیں؟ کیسی ہوتی
ہیں؟ تمہیں تو آج تک پتہ نہیں چل سکا، لنگڑی چاچی کی بہو پرسوں آئی تھی، وہی
ننگا سا بلاؤز پہنے ہوئے، کالی سلمی کا پتہ نہیں کیا حال ہے؟ ان کے یہاں جانا ہی
نہیں ہوا ہے،اپنے بارے میں خاص خبر ابھی نہیں دے سکتی،طبیعت ٹھیک نہیں
ہے،منہ بھی کھٹا میٹھا سا ہو رہا ہے،خوامخواہ بہو کو دو چار تگڑی تگڑی گالیاں
دینے کو جی کرتا ہے،اے جب اسے گالیاں دو تو کمبخت معصوم سی بن کر
گھورنے لگتی ہے، کمینی کہیں کی، بہت حرافہ ہے کمبخت، ۔ ۔
ہیلو، رضیہ، تم پھرہنسیں؟ تمہاری آواز کو کیا ہوگیا ہے؟
تب، ایک مردانہ آواز ہنسی سے لبالب بھری ہوئی بولی خاتون آپ کی رضیہ
کی لائن تو کب کی کٹ چکی،ہاں، میں اپنے رانگ نمبر پرآپ کی دلچسپ باتیں سن
رہا تھا اور ہنس رہا تھا،آپ کا بہت بہت شکریہ،آج آپ کے طفیل میرے دو گھنٹے
بور ہونے سے بچ گئے۔

Friday, June 23, 2006

Neeli Chandni-تمناؤں کی نیلی چاندنی میں

Tammanaon ki neeli chandni mein
Kahan ho tum hamari zindagi mein
Kahan in surkh pholon ko chupaon
Udaasi hal na ho jaye khushi mein
Tere alfaaz hain anmol tohfey
Jo dhalte ja rahe hain shayeri mein
Mera foto saja kamre mein uskey
Yakayak ho gai kitni barri mein
Meri sochon ka darya kaise murrta
Kahan tum jaisi gehrai kisi mein
Zara baarish ki be-baaki to dekho
Chamma cham aa gai meri hansi mein
Sawaal uski anna ka aa gaya tha
Jawaban likh diya naina sabhi mein

Thursday, June 01, 2006

سوندھی خوشبو

Pehli Khushi-پہلی خوشی

Misaal E Barg - مثال برگ

Nisaiyat,Naina,Neele Chiraagh-Dr.Tahir Taunswi-نسائیت،نیناں،نیلے چراغ

نسائیت، نیناں اور نیلےچراغ
اردو شاعری کا مطالعہ کریں اور اخبارات و رسائل کا جائزہ لیں تو یوں لگتا ہےکہ ایک سیلِ شاعرات ہےکہ بہتا چلا آرہا ہےاور شعری مجموعوں کا یہ عالم ہےکہ چھپتےچلےجارہےہیں،مشاعرےہوں یا تقریبات خواتین ہیں کہ چھائی چلی جارہی ہیں اور اس فعل
حالِ جاریہ میں معیار کا تجزیہ کریں تو گراف اونچا دکھائی نہیں دیتا بلکہ صورتِ حال کچھ اور دکھائی دیتی ہے:
کہ ہیں کواکب کچھ نظر آتےہیں کچھ
تاہم عہدِ موجود میں ایسی شاعرات بھی ہیں جن کی بدولت اردو شاعرات کا بھرم قائم ہےاور آٹےمیں نمک کےبرابر سہی مگر ان کےاظہار کا اپنا ذائقہ ان کےوجود کی واضح نشاندہی کرتا ہےاس حوالےسےادا جعفری، پروین فنا سید، شبنم شکیل، پروین شاکر، شاہدہ حسن، کشور ناہید، فہمیدہ ریاض، منصورہ احمد، شاہین مفتی، سارہ شگفتہ اس میں چند اور جینوئین شاعرات کا اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
خواتین قلم کاروں کےاس قبیلےمیں فرزانہ نیناں بھی انفرادی شان کےساتھ شامل ہوئی ہےاور اس کےکلام ِ غزل و نظم کو پڑھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بہت کم عرصےمیں اعتناد اور پوری تخلیقی توانائی سےاپنا شعری سفر طےکرنا شروع کیا ہےاور اس کےشعور و آگہی کی ندی مدھم سروں سےبہتی ہوئی دل و دماغ کو ٹھنڈک اور فکر و نظر کو تازگی عطا کرتی ہےاور اس کی غزل اور نظم کامطالعہ اس بات کا اعلان نامہ بھی ہےکہ اس کےپس منظر میں نیناں ہی بول رہی ہے،
یہ اس کی اپنی آواز ہےجس نےتخلیقی چشمےمیں ارتعاش پیدا کیا ہے۔اس کا شعری ورثہ اپنا ہی ہے، اس کےلب و لہجہ میں جو گداز ، اپنائیت، درد اور شیرینی ہے وہ ایک عورت کےاسلوب کی نشاندہی کرتےہیں۔ اس تناظر میں اس کےشعری مجموعی ‘نیلی رگیں‘ کا نام بھی پوری شعری معنویت کےساتھ سامنےآتا ہےاور جس طرح درد کا رگوں سےگہرا تعلق ہےاور پھر رگوں پر چوٹ (خواہ وہ ہلکی سی کیوں نہ ہو) لگتی ہےاس کی وجہ سےجو نیلاہٹ آجاتی ہےاس دکھ اور درد کی توجیہہ اور اس کے پیدا ہونےکی وجوہات کا تذکرہ لفظوں کےحوالےسےجس طرح نیناں نےکیا ہےاور سماج کی ساری کیفیات کو جیسے بھرپور انداز میں وہ سامنےلائی ہےاس میں اس کا ذاتی تجربہ ،مشاہدہ اور مطالعہ ایک مثلث شکل اختیار کر لیتا ہےاور پھر اس کی سوچ اور فکر کےدھارےرنگا رنگ موضوعات کی صورت میں شعر کےقالب میں ڈھل جاتےہیں،
یہاں دیدہءبینا کی فرزانگی بھی ہےاور عشق و محبت کی دیوانگی بھی، تخلیقی اظہار کےاس تنوع میں نیناں کی نسائیت نےبڑا کردار ادا کیا ہےجو اس کی ذات پر اعتماد سےچھائی ہوئی ہے۔ جس طرح ہندی اور پاکستان کی علاقائی زبانوں میں عورت ہی عاشق کا روپ دھارتی ہے، نیناں کےہاں بھی یہی رویہ ہےکہ وہ دیوانگیءعشق میں سسی کی طرح نہ صرف مارو تھل کی خاک چھانتی ہے بلکہ فراقِ پُنل میں رات بھر اپنی پلکوں کو جھپکنےبھی نہیں دیتی اور یہ اس کی سچی، حقیقی اور بےلوث محبت کا ثبوت ہے،
وہ اپنےمحبوب کی یاد کو سینےسےلگائےاس کےخیال میں گم رہتی ہےاور اپنی ذات کو اس کی ذات میں اس طرح چھپا لیتی ہے جیسے کوئی کسی کی پناہ لےرہا ہو، اس کےیہاں وصلِ یار کی خواہش اورتمنا ضرور ہےمگر اس ہجر کی آگ میں جلنےکا جو عمل ہےاس کا لطف ہی کچھ اور ہے، یہی وجہ ہےکہ وہ یادِ یارِ مہرباں کو اپنی زندگی کا سرمایہ سمجھتی ہے، اس کےاظہار کی یہ جھلکیاں دیکھیں:
تلاش بستی میں کرتا ہےجس کو شہزادہ
وہ مورنی کسی جنگل نےپال رکھی ہے
رہیں گےنام وہ پیڑوں پہ نقش صدیوں تک
چڑھا کےجن پہ بہاروںنےچھال رکھی ہے
نیلگوں جھیل میں ہےچاند کا سایہ لرزاں
موجِ ساکت بھی کوئی آئےسنبھالےاس کو
اپنےبےسمت بھٹکتےہوئےنیناں کی قسم
کتنےخوش بخت ہیں سب دیکھنےوالےاس کو
اب کےٹس سےمس نہیں ہونا ہوا کےزور پر
بےدھڑک لکھےوہ ان پتوں پہ رائےبےحساب
نیلمیں نیناں میں جلتےبجھتےہیں نیلےچراغ
خالی کمرےمیں چلےآتےہیں سائےبےحساب
نیلےسمندروں کا نشہ بڑھ نہ جائےگا
موتی نکال لاؤں اگر بےشمار میں
کبھی ہم نیل کےپانی میں اس انداز سےڈولیں
کہ اپنی داستاں لکھ دیں اسی دجلہ کےدھاروں میں
ان اشعار میں نیناں نےزندگی، محبت، عشق، چاہت، پیار اور اس سےپیدا شدہ کیفیات کی جو عکس ریزی کی ہےاس میں حیات و
کائنات کےسارےرنگ موجود ہیں، تاہم اسےنیلےرنگ سےزیادہ انس ہے، میرےنزدیک نیلی، نیلگوں،نیلمیں اور نیل کےساتھ نیناں نےجو ہم آہنگی پیدا کی ہےاور پھر درد کی نیلی رگوں نےجو مضمون آفرینی کی ہےاس کےتناظر میں یہ بات سامنےآتی ہےکہ اس نےنیلےرنگ سےاپنی شاعری میں ایک نیا انداز اور نیا طرزِ ہنر پیدا کیا ہےجو حرفی اور معنوی دونوں اعتبارات سےنہ صرف دیکھنےمیں بھلا معلوم ہوتا ہےبلکہ اس کےحسن کو محسوس بھی کیا جا سکتا ہےاور اس کےظاہر و باطن کےموسموں کا بھی ادراک ہو جاتا ہے،
یوں دیکھیں تو نیناں کی غزل کا مزاج ہی بدل جاتا ہےاور نئی رُتوں کا ذائقہ محسوس ہوتاہے، نیناں کےمحسوسات کو اس زاویےسےدیکھین
ہےذرا سا سفر گذارا کر
چند لمحےفقط گوارا کر
آسمانوں سےروشنی جیسا
مجھ پہ الہام اک ستارا کر
دھوپ میں نظم بادلوں پر لکھ
کوئی پرچھائیں استعارا کر
کھو نہ جائےغبار میں، نیناں
مجھ کو اےزندگی پکارا کر
یہ خوبصورت اظہار نیناں کی اس طرح کی دوسری غزلوں میں بھی پھیلا ہوا ہےجن میں اس نےاستعارہ، پکارا، ستارا کرنےکی باتیں کی ہیں جن میں کوئی دوسرا شریکِ گفتگو ہےاور وہ بھی اس طرح:
مرےخیال کےبرعکس وہ بھی کیسا ہے
میں چھاؤں چھاؤں سی لڑکی وہ دھوپ جیسا ہے
یونہی نہیں تمہیں نیناں نےروشنی لکھا
تمہارےساتھ ہمارا یہ رشتہ طےسا ہے
اس کیفیت کو نیناں نےایک اور رنگ میں یوں بیان کیا ہے:
رات دن سویروں سا خواب جلتا رہتا ہے
شام رنگ جنگل میں، میں ہوں اور مرا ساجن
محبت کرنےوالوں کی کہانی بس یہی تو ہے
کبھی نیناں میں بھر جانا کبھی دل میں رچا کرنا
اس طرح دیکھیں تو نینوں میں بھر جانےوالےدل میں رچنےکی بات محبت کرنےوالوں کی کہانی کو جنم دیتی ہےاور اس کہانی کا تسلسل نیناں کی نظموں میں بھی موجود ہےمگر فرق یہ ہےکہ وصال سےزیادہ فراق کا رنگ نمایاں ہے چنانچہ اس کی نظمیں ؛ کبھی تم بھی ہم کو ہی سوچنا؛ کب تم مجھ کو یاد کروگی؛ فقط اک پھول؛ محبت کےثمر آور گلابوں کی داستاں سناتی ہیں مگر اس کےپس منظر میں درد کی جو لےاور دکھ کی جو ر وَ ہےوہ درد کی نیلی رگوں کی صورت میں عکس ریز ہوتےہیں، یہاں اس کا لب و لہجہ بھی بدلا ہوا اور اسلوب بھی مختلف ہےاور بین السطور جو کیفیت ہےاس کا اندازہ مشکل نہیں:
شام کےسناٹےمیں بدن پر کوٹ تمہارا جھولےگا
یاد کا لمس ٹٹولےگا
،گھور اداسی چھولےگا
اونچی اونچی باتوں سےتم
خاموشی میںشور کروگے
گیت پرانےسن کر ٹھنڈی سانسیں بھر کر بھور کروگے
اس پل شب کی تنہائی میں اپنےدل کو شاد کروگے۔۔۔
بولو مجھ کو یاد کروگے۔۔۔!!!
(کب تم مجھ کو یاد کروگے)
کبھی تم بھی ہم کو ہی سوچنا
کبھی اڑتی چڑیاں دبوچنا
یہ کھرنڈ زخموں سےنوچنا
(کبھی تم بھی ہم کو ہی سوچنا)
ان نظموں میں موضوع اور اسلوب کا جو نیا پن ہےوہ نیناں کے بے پناہ تخلیقی شعور اور ندرت، فکر و خیال کی عکاسی کرتا ہےاور اس بات کےامکانات کی بشارت بھی دیتا ہےکہ لمحہءموجود میں اس نےجو کچھ لکھا ہےاور جو بھی اس نےکہا ہےوہ اسےاس قبیلےکی جس کا ذکر آغاز میں ہوا ہے معتبر ،توانا اور منفرد شاعرہ کےطور پر سامنےلاتا ہے، ابھی اسےبہت کچھ کہنا ہے، بہت کچھ دیکھنا ہےاور بہت کچھ سیکھنا ہے، جوں جوں وہ اس حال سےگزرتی جائےگی اس کا رنگ، ہنر،فکروفن نکھرتا اور سنورتا چلا جائےگا۔ آنےوالا وقت یقینی طور پر ‘نیلی رگیں‘ کےمطالعےسےسرشار ہوکر اسےاردو کی منفرد شاعرہ کےطور پر تسلیم کرےگا جبکہ میرےنزدیک اس وقت بھی وہ اردو کی منفرد شاعرہ ہےجس نےنسائیت کےحوالےسےنیناں کےنیلےچراغ روشن کیئےہیں، اس لیئےکہ نیلےرنگ کی چمک کبھی مدھم نہیں ہوتی، آنکھوں میں سمندر کو تیراتی اور آسمان کو لہراتی رہتی ہےاور یہی حال نیناں کی شاعری کا ہے۔
تحریر:ڈاکٹر طاہر تونسوی

Raat Bhar Dekhey- رات بھر دیکھے پہاڑوں پہ برستے موسم

Wednesday, May 31, 2006

Darya-e-neel ka safar-Professoer Seher Ansari

دریائےنیل کا سفر
”در دکی نیلی رگیں“ میں سب سےاہم بات یہ ہےکہ شاعرہ کےاپنےشعری رویئےاور زندگی کی فکر میں ان کا جو سانچہ ہےوہ ذرا
مختلف سا نظر آتا ہے، اس میں سب سےپہلی بات تو یہ کہ اس کتاب کا سائز اوراور اس کی پروڈکشن۔۔۔!اسی آپ دیکھ لیجئےتو اندازہ ہوتا ہےکہ وہ انفرادیت اور پامال رستوں سےہٹنےکا رویہ اپنی زندگی میں رکھتی ہیں، یہ اندازہ ہوتا ہےکہ انھوں نےکتاب کی جو عام طریقوں سےتیاری ہوتی ہےاس کی ترکیب کو مختلف انداز سےپیش کیا ہے، پھر اس کےساتھ یہ ہےکہ شاعری میں ایک ایسی شدت احساسات کی سمودی ہےکہ کلام پڑھنےکےساتھ ساتھ یہ معلوم ہوتا کہ واقعی یہ شاعری کو زندگی میں برتتی ہیں اور اپنےگردو پیش کی جو زندگی ہےاس میں فطرت اور مختلف انسانوں کو اپنی شاعری میں سموتی ہیں، انھوں نےجس طرح نثر میں بھی جوبات لکھی ہے، ایک بات یہ کہ مولسری کی شاخوں میں چھپادیتی ہوں جن پر میں تپتی دوپہروں میں مولسریاں کھا کر اس کی گٹھلیاں راہگیروں کو مار کر اپنےآپ کو ماورائی شخصیت سمجھتی تھی، ایک اور بات یہ کہ موہنجو ڈارو کےقبرستان میں شاعری کھڑا کر دیتی ہیں، جہاں ماں باپ کی قبروں پر فاتحہ پڑھتےہوئےمیں کانچ گھڑی میں ریت کی مانند بکھرنےلگتی ہوں، یہ ایک ایکویژن ہےکہ موہنجو ڈارو کی پوری تہذیب اس وقت اور اس کےساتھ پھر اپنےماں باپ کی قبر، فاتحہ اور اس کےساتھ پھر وقت ریت کی طرح گزارنےکی کیفیت، یہ وہ چیزیں ہیں کہ جن سےمعلوم ہوتا ہےکہ محسوسات کوایک تجسیمی شکل میں دیکھنا اور انھیں پیش کرنا یہ شاعری کی ایک بہت بڑی خصوصیت ہے، فیض صاحب کی ایک نظم میں ہےکہ”درد کی کاسنی پازیب بجاتی نکلی“ تو اب دیکھئےدرد کی کاسنی پازیب اور ”درد کی نیلی رگیں“ تو ایک غیر مرئی چیز ہی”درد“ اس کو آنکھوں سےدکھا دینا، محسوس کرادینا جو کہ نظر نہیں آتا ہےوہ نیلی رگوں کےذریعےہی ممکن تھا، تو یہ بات پوری شاعری میں نظر آتی ہےکہ محسوسات کو تمثیلوں کےذریعےتصویروں کی طرح اجاگر کیا گیا ہےکہ شاعرہ کےتخیل کو اور ان کےمحسوسات کی دنیا کو، ہم ان کی شاعری میں پوری طرح پالیتےہیں، میں نےجتنےاشعار منتخب کئے، سنائےجاچکےہیں، پھر بھی اس طرح ہےکہ: اک وراثت کی طرح گاؤں کی گڑ سی باتیں گٹھڑیاں باندھ کےاس دل کےنگر آتی ہیں تو اب اس طرح کی جو امیجری ہےآپ دیکھیں گےکہ پراندہ ہے، رہٹ، مورپنکھ،اوک میں پانی بھرنا، جن کو شاعری کی دنیا میں ہم غیر شاعرانہ الفاظ کہتےہیں، شاعری وہیں اپنا جوہر دکھاتی ہےکہ جہاں لفظ جنھیں آپ یہ سمجھتےہیں کہ یہ بےجان ہیں یا اس کا استعمال غیر شاعرانہ ہوجائےگا وہاں شاعر اپنی تخلیقی قوت سےاس کو ایک نئی زندگی دے تو وہ ہی دراصل شاعری کا اصلی جوہر ہوتا ہے، ایسی کئی مثالیں نیناں کی شاعری میں نظر آتی ہیں: تمہیں گلاب کےکھلنےکی کیا صدا آتی تمہارےگرد تو ہر وقت صرف پیسا ہے تو زندگی کو انھوں نےجس طرح دیکھا ہےوہ بھی ایسےماحول میں رہتےہوئےجہاں آپ دیکھیں گےکہ انسان کی کوئی قدر نہیں ہے، جذبِ زَر کا ایک رحجان پایا جاتا ہےاور اس کےبارےمیں نظیر اکبر آبادی نےکہا ہےکہ ”کوڑی کےساتھ جہان میں نصب نہ دین ہے کوڑی کےپھر تین تین ہیں“ تو وہاں ان قدروں کو محسوس کرنا کہ پیسہ اور دولت کوئی قدر نہیں ہےاصل چیز تو یہ ہےکہ آپ کےکانوں تک گلاب کےچٹکنےکی صدا پہنچ سکی، شدید جذبات ہیں اور لطیف جذبات ہیں، نیناں نےمختلف حوالوں سےمحسوس کیا ہےاب جیسےہمارےمعاشرےکی زندگی، کارو کاری کا بہت ذکر ہوتا ہی، Honour کےمختلف مسائل بھی آتےرہتےہیں اب ان کو شعروں میں اس طرح ڈھالنا کہ: قبیلےکےخنجر بھی لٹکےہوئےہیں
کھڑی ہیں جہاں لڑکیاں دل کو ہاری
تو اب یہ جو ہےکہ:
لگاتار روتی ہےلہروں کی پائل
سدا جھیل میں ہیں شکاری شکاری
ان کی غزلوں اور نظموں میں جو نئےالفاظ کی تلاش ہےاس کو آپ رعایتِ لفظی نہیں کہہ سکتےبلکہ وہ اپنی معنویت کےساتھ ہیں جیسے” شکاری اور شکاری“ میں جو معنوی کیفیت ہےوہ پوری طرح واضح ہوجاتی ہے:
پیاسوں کےواسطےیہی نیناں بھرےبھرے
جلتےجھلستےتھر میں کبھی رکھ دیا کرو
ہے بلند آدمی ذہانت سی
ذہنیت پست ہےتو پستہ ہی
اب یہ جو بات لکھی ہےکہ میں سماجی مسائل کی بابت نہیں لکھتی، یہ سماجی زندگی تو خود بخود شاعرکےاندر آجاتی ہےاگر اس میں کوئی شعور موجود ہےکیونکہ کسی انتہائی باطنی اور داخلی تجربےکو یہ محسوس کریں کہ اس کا کوئی خارجی حوالہ نہیں ہےتو تجزیئےسےمعلوم ہوگا کہ وہ بھی کسی خارجی حوالےکےذریعےآپ تک پہنچا ہے:
دھوپ گر نہ صحرا کےراز کہہ گئی ہوتی
میں تو بہتےدریا کےساتھ بہہ گئی ہوتی
, ان کےاشعار میں بےساختگی کےساتھ مصرعوں کی جو پوری ساخت نظر آتی ہےاس میں پورا ایک سانس کا اتارچڑھاؤ جو کہ شاعری کےلئےبہت ضروری ہےوہ مصرعوں میں پوری طرح محسوس ہوتا ہے، اس پر کم گفتگو ہوئی ہے، نظموں پر بھی کم گفتگو ہوئی ہے، نظموں میں ایک اہم بات یہ ہےکہ خیال کی ہر لہر شروع سےآخر تک ایک رہےاور اس میں نامیاتی اکائی یا آنریری یونٹی ایک رہےاور وہ نامیاتی اکائی ان کی نظموں میں نظر آتی ہے:
کڑی دھوپ میں چلتےچلتے
سایہ اگر مل جائے۔۔۔ تو!
اک قطرےکو ترستےترستے،
پیاس اگر بجھ جائےتو۔۔۔!
برسوں سےخواہش کےجزیرے
ویراں ویراں اجڑےہوں
اور سپنوں کےڈھیر سجا کر
کوئی اگر رکھ جائے۔۔۔تو!
بادل، شکل بنائیں جب
نیل آکاش پہ رنگوں کی
ان رنگوں میں اس کا چہرہ،
آکےاگر رک جائے۔۔۔تو!
خاموشی ہی خاموشی ہو،
دل کی گہری پاتالوں میں
کچھ نہیں کہتےکہتےگر،
کوئی سب کہہ جائےتو۔۔۔!
زندہ رہنا سیکھ لیا ہو ،
سارےدکھوں سےہار کےجب
بیتےسپنےپاکےخوشی سے،
کوئی اگر مر جائے۔۔۔تو
یہ پوری اکائی ایک خیال کی موجود ہےاگر اس میں سےیہ نکال دی جائےتو یہ محسوس ہوجاتا ہےکہ اس میں ایک کمی واقع ہوگئی ہے، ان کےیہاں نظموں میں انفرادیت ہے، نیناں پہلےبھی یہاں آچکی ہیں جب بھی سنا اور اب بھی، یہ ثابت ہوا ہےکہ ان کےیہاں دوسروں سےمختلف ایک انفرادیت موجود ہےاور یہ دوسروں سےالگ لہجہ، اپنی شاعری کا راستہ، رخ اور انداز بنا رہی ہیں،
لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہےاور اس کا احساس ان کی اس نظم میں نمایاں ہےکہ:
اپنا راستہ ڈھونڈنا اکثر اتنا سہل نہیں ہوتا ہے
لوگوں کےاس جنگل میں،
چلنا سہل نہیں ہوتا ہے
یہ تو کوئی جگنو ہے
جو لےکر روشن سی قندیل
کبھی کبھی یوں راہ بناے،
جیسےہو دریائےنیل۔۔۔!
تو یہ حقیقت ہےکہ انفرادیت کا راستہ شاعری میں بنانا، جہاں اتنی آوازیں ہیں اتنےلہجےہیں، تو یہ واقعی اک دریائےنیل کا ساسفر
ہے جو اپنا راستہ خود بناتا چلا جاتا ہے۔۔۔ مجھےاس کی پوری امید ہےکہ یہ دریائےسخن اسی طرح بہتا رہےگا اور یہ دریائےنیل جو کہیں جاکر سفید بھی ہوجاتا ہےوہ اپنےرنگ اجاگر کرتا رہےگا ، میں ان کو بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انھوں نےایک بہت اچھا مجموعہ اردو شاعری کو عنایت کیا ہے۔۔۔شکریہ
پروفیسر سحر انصاری کراچی

Arts Council Karachi---Naqqash Kazmi

نقاش کاظمی
معزز خواتین و حضرات، آپ نےہمیشہ ہی دیکھا ہےکہ جب باہر سےکوئی صاحبِ قلم تشریف لاتا ہےاور کتاب بھی اس کی بغل میں ہو تو ہم یہی کوشش کرتےہیں کہ وہ کتاب منظرِ عام تک پہنچے، آرٹس کونسل کےتوسط سےاس کی رونمائی ہوسکے، ایسی ہی یہ تقریب ہےجس میں، میں آپ تمام حضرات کو خوش آمدید کہتا ہوں، شکر گزار ہوں آپ کا کہ آپ یہاں تشریف لائے، محترمہ فرزانہ خان نیناں پہلےبھی کئی بار تشریف لائیں اور اس مرتبہ بھی قابلِ تحسین ہیں کہ ان کی تشریف آوری سےبڑی بڑی بزمیں سج رہی ہیں، رونقیں دوبالا ہورہی ہیں، اس کی وجہ یہ نہیں ہےکہ وہ فیشن کی شاعرہ ہیں بلکہ ان کا طرزِ بیاں،طرزِ سخن، ان کا نیا پن، اچھوتا پن بےشمار اشعار ایسےہیں کہ جن کو پڑھ کےآپ کو احساس ہوگا کہ یہ نئی نسل کس انداز میں سوچتی ہےاور کیا طرزِ سخن اختیار کئےہوئےہے، وجہ اس کی یہ ہوسکتی ہےکہ انھوں نےابتدائی تعلیم اور ثانوی تعلیم پاکستان میں حاصل کی اس کےبعد جب یہ بیرونِ ملک تشریف لےگئیں تو بہت ہی جدید علوم سےوابستگی انھوں نےحاصل کی، جن میں میڈیا کےبہت وسیع تر حوالےملتےہیں ٹیلی کمیونیکیشن میں اور اس میں بڑا نیا پن ملتا ہے، اس دنیا میں جب ادب داخل ہوتا ہےتو وہ نئی نئی جہتیں معلوم کرتا ہےاور جہتیں دکھاتا بھی ہے، جب ادب اور سائنس یکجا ہوں تو بڑےبڑےمضامین سامنےآتےہیں، بہت سےلوگوں نےدیکھا ہےکہ بڑےبڑےمضامین لکھےگئےلیکن اس جدید دور میں جب مائیکروویو کمیونیکیشن آجائے، جب سیٹیلائٹ کی لہریں نیا نیا سماں پیدا کرتی ہیں، ایک ایک بٹن دباتےہی ایک سےدوسرےملک تک پہنچ جاتےہیں، ایک سےدوسرا منظر بدلتا ہے، یہ منظر نامےاتنی تیزی سےبدلتےہیں کہ اس میں فرزانہ جیسی شاعرہ ہی بہت کامیابی سےسفر کر تی ہیں اور کر رہی ہیں، میری دعا ہےکہ ان کو کامیابی حاصل ہوتی رہے، یہ خود جب اشعار پیش کریں گی تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ ان کا کلام کتنا جدید اورمختلف ہے، میں شکر گذار ہوں ان کا کہ انھوں نےاپنی کتاب کی رسمِ اجراءآرٹس کونسل میں منعقد کروائی ہے، ان تمام بڑےلوگوں کی طرح جنھوں نےملک سےباہر جاکر غیر ممالک میں علم و ادب کی شمع روشن کی یہ ان کا بڑا پن ہےایک بڑا کارنامہ ہے، اردو زبان وادب کی خدمت کرنےوالوں میں ایک حصہ فرزانہ خان نیناں بھی ہیں کہ جو یہ مشعل روشن کئےہوئےہیں، میں انھیں اپنی نیک خواہشات اور مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
کراچی آرٹس کاؤنسل

Nostalgic----Professor Shahida Hassan

ایک مغربی مفکر نےکہا تھا کہ جب کوئی اپنا وطن چھوڑتا ہےتو وہ اپنےساتھ صرف
اپنا جسم لےجاتا ہےاور اپنی روح گویا اسی دھرتی پر چھوڑ جاتا ہے، حقیقتاََ دیکھا جائےتو ایسےتمام افراد جو ترکِ وطن کےجبر سےگزرتےہیں، کسی نہ کسی طور ساری عمر اپنی سرزمین سےوابستگی کی تمنا میں اپنی زبان، اپنی ثقافت اور اپنےلوگوں سےہمیشہ جڑےرہنےکی ہر ممکن کوشش کرتےرہتےہیں، اگر یہ تجربہ کسی حساس عورت کےحصےمیں آجائےتو اس کی اہمیت اس لئےبھی دوچند ہوجاتی ہےکہ عورت اپنےمحسوسات کی نوعیت اپنی جبلتوں اور اپنےنفسیاتی ردِ عمل کی بنا پر مرد سےمختلف لیتی ہےاگر وہ اپنےذاتی احساسات کےبیان کسی پیرایہ اظہارکو اختیار کرنےپر قادر ہوجائےتو ہمیں اس کےشخصی تجربی، مزاج، معنی کی مختلف جہتوں کو سمجھنےکی کوشش کرنی چاہئےکیونکہ اس طرح بہت سی اصلی صداقتوں کو سامنےلانےمیں مدد ملتی ہے، فرزانہ خان نیناں نہ صرف دیارِ غیر میں آباد ہیں بلکہ اپنی کاوشوں اور عملی کاموں کےذریعےاردو زبان و ادب کی ترویج میں بھی بھرپور حصہ لیتی ہیں، مجموعےمیں شامل ان کےکوائف بغور پڑھیں تو اندازہ ہوگا کہ کراچی کےمصروف تعلیمی ادارےسرسید کالج سے فرزانہ جب انگلستان پہنچیں تو زندگی کےمختلف شعبوں میں اپنی تعلیمی استعداد بڑھانےکےساتھ ساتھ انھوں نےبراڈ کاسٹر، کمپیئر، سوشل ورکر، شاعرہ ، کہانی نویس اور بزمِ علم و فن کی جنرل سیکریٹری کی حیثیت سےبھی اپنی متنوع صلاحیتوں اظہار کیا، ان کا نام انگلستان کےادبی حلقوں میں ایک معروف نام ہےلیکن اب جبکہ وہ اپنےاولین شعری مجموعے”درد کی نیلی رگیں“کےساتھ ہم سےاور آپ سےبھی متعارف ہورہی ہیں تو میں سمجھتی ہوں کہ کراچی کےادبی حلقوں سےان کا تعارف یقیناََ ایک دیرپا اور خوشگوار تاثر کا حامل ہوگا ، عبدالرحمٰن چغتائی نےمصوری کےفن کےحوالےسےلکھا: ’کہ کسی آرٹسٹ کی پہلی تصویر متعارف ہوتی ہےتو وہی دن فن کی دنیا میں اس کی پیدائش کا دن ہوتا ہے‘ نیناں نےبھی فن کی دنیا میں اپنےپہلےشعری مجموعےکی اشعت کےساتھ اپنےوجود کی آمد کا اعلان کیا ہےاور اس اعلان میں ایک مسرت اور خوشی موجزن ہے، کسی فن پارےکی اولین اظہار کی تشکیل اس اعتبار سےبھی اہم ہوتی ہےکہ اس میں فنکار کےاظہار کےابتدائی خدوخال طےپارہےہوتےہیں ، انہی خد وخال میں وہ آنےوالےزمانوں میں اپنےگوناگوں احساسات ،خیالات، نت نئےافکار اور زندگی کی سچائیوں کےانکشاف سےحاصل ہونےوالےادراک کےانوکھےاور دیرپا رنگ بھرتا چلا جاتا ہے، اگر نقشِ اول فطری اور بےساختہ ہو اور فنکار کی ا نفرادیت اور تجربےکی سچائی پر دلالت رکھتا ہو تو اس کی کوششیں قابلِ قدر اور قابلِ توجہ قرار پاتی ہیں، درد کی نیلی رگیں کا مطالعہ کرتےہوئےکوئی بھی یہ محسوس کر سکتا ہےکہ ان اشعار میں جذبوں اور محسوسات کےنئےپن سےپیدا ہونےوالی تازگی بدرجہ اتم موجود ہے، ان کی ساری شاعری میں ایک گہرےدرد کی کیفیت لہریں لیتی ہےجسےوہ بار بار درد کی نیلی رگوں کی ترکیب کےتعلق سےاجاگر کرتی ہیں، پھر وہی نیلا رنگ دردو غم کےاظہار کی مختلف کیفیات کےبیان کےلئےمختلف تراکیب کےحوالےسےمسلسل نمودار ہوتا رہتا ہے، محسوس ہوتا ہےکہ اس رنگ کو نیناں کےمحسوسات کی دنیا سےایک خاص نسبت ہےاور ہمیں یہ رنگ جو دور تک پھیلےاس آسمان کا رنگ بھی ہےاور ٹھاٹھیں مارتےسمندر کا رنگ بھی ہے، کسی کی حسین آنکھوں کا رنگ بھی ہےاور جسم پر کسی چوٹ کی شدت کو اجگر کرنےوالا رنگ بھی ،اس طرح یہ رنگ اپنےمتضاد اثرات مرتب کرنےکی صلاحیت رکھتا ہےاور زندگی کی وسعت، نرمی، گداز اور شدت کی مختلف کیفیات کی عکاسی کرتا ہی، نیناں کی شاعری گمشدہ لمحوں کی متلاشی اور ان سےمنسلک یادوں سےپیوستہ زندگی کی آئینہ نما ہے، مگر ان یادوں میں ایک خوشگواری ہے،وہ لبوں سےآہ بن کر نہیں نکلتی بلکہ کسی تشنہ وجود پر بارش کےشبنمی قطروں کی طرح آہستہ آہستہ ٹپکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، یہ یادیں گذری ہوئی شاموں اور کھوئےہوئےدنوں کی یادیں ہیں اور خواب ہوجانےوالےدلپسند انسانوں اور محبت کرنےوالی گمشدہ ہستیوں کی یادیں ہیں، جن کو وقت نےاپنی سیاہ چادر میں لپیٹ کر اوجھل کردیا ہے، اپنےوطن اپنےگھر اپنی مٹی اپنی گلیوں اور اپنےآنگن کی سمت لے جانے والے خوابناک اور بےانت رستےپر بڑھتی چلی جاتی ہیں اور یادوں کی کرچیاں چنتی رہتی ہیں، یوں اپنےدل کو زخم زخم کیئےجاتی ہیں:
ترےخیال سےآنکھیں ملانےوالی ہوں
نئےسروپ کا جادو جگانےوالی ہوں
میں سینت سینت کےرکھےہوئےلحافوں سے
تمہارےلمس کی گرمی چرانےوالی ہوں
زرد پتوں میں کسی یاد کےجامن کےتلے
کھیلتےرہتےہیں بچپن کےچہکتےموسم
روز پرچھائیاں یادوں کی پرندےبن کر
گھر کےپچھواڑےکےپیپل پہ اتر آتی ہیں
کان میں ،میںنےپہن لی ہےتمہاری آواز
اب مرےواسطےبیکار ہےچاندی سونا
اوڑھ کےپھرتی تھی جو نیناں ساری رات
اس ریشم کی شال پہ یاد کےبوٹےتھے
بدن نےاوڑھ لی ہےشال اس کی
ملائم نرم مخمل ہوگئی ہوں
کسی کےعکس میں کھوئی ہوں اتنی
خود آئینےسےاوجھل ہوگئی ہوں
چل دیا ساتھ ہی میرےتری یادوں کا ہجوم
راہ سےزیست کی تنہا جو گزرنا چاہا
فرزانہ کی تمثالوں اور امیجز کی ابھرتی دنیا ، خیالوں، خوابوں، اتھاہ محبتوں اور انمٹ یادوں کی دنیا ہے، ابھی ان میں زندگی کی تلخیاں شامل نہیں ہیں ، انھوں نےگرچہ زندگی کےمختلف روپ دیکھےہیں مگر گزرتےہوئےروز و شب میں کچھ کھونےاور کچھ پانےکی آرزو کرتےہوئےاپنےسفر اور قیام کی منزلوں میں انھوں نےاپنےباطنی وجود کی آسودگی کےلئےکچھ ایسےاہتمام کر رکھےہیں کہ ان کےیہاں محرومی، اداسی، حزن و ملال کی کیفیات کےبجائےسرشاری اور شادمانی کا احساس نمایاں رہتا ہے:
خواہشیں ہوش کھوئےجاتی ہیں
درد کےبیج بوئےجاتی ہیں
انگلیوں سے لہو ٹپکتا ہے
پھر بھی کلیاں پروئےجاتی ہیں
کیسا نشہ ہےسرخ پھولوں میں
تتلیاں گل پہ سوئےجاتی ہیں
کتنی پیاری ہیں چاندنی راتیں
تم کو دل میں سموئےجاتی ہیں
خیال نیناں اڑی جو نیند تو اک جاں فزا
خوشبو لگا بہار لگا روشنی لگا
اس شاعری میں ایک مسلسل نوسٹالوجی ہے، یہی وہ کیفیت ہےجسےانھوں نےاپنی
خوبصورت نثری تحریر میں ’میری شاعری‘ کےعنوان کےساتھ کتاب میں شامل کیا ہے، سچ پوچھئےتومجھےیہ ساری تحریر نیناں کی غزلوں اور نظموں کی خوبصورت تشریح کےمترادف محسوس ہوئی ہے،یہاں ہم دو دنیاؤں میں بٹےہوئےناآسودہ وجود سےملتےہیں جو ہمیں اپنی یادوں کےطلسم میں جکڑ لیتا ہے۔۔۔ نیناں اپنی شاعری کےبارےمیں کہتی ہیں کہ یہ میری ایک اپنی دنیا ہےجہاں میں سب کی نظروں سےاچانک اوجھل ہوکر شہرِ سبا کی سیڑھیاں چڑھتی ہوں، میری شاعری سماجی اور انقلابی مسائل کےبجائےمیری اپنی راہِ فرار کی جانب جاتی ہے، اس شاعری میں اس پیپل کےدرخت کا بھی ذکر ہےجس کےپتوں کی پیپی بنا کر وہ شہنائی کی آواز سنا کرتی تھیں اور بھوبھل میں دبی آم کی گٹھلیوں کا ذکربھی ہےاور تتلیوں کےپروں پر لکھےچہروں،گڑیوں کےکھونےوالےچہروں، گوندھےجانےوالےپراندوں، تکئےکےتلےرہنےوالےخطوں،اور سپاری کاٹنےوالےسروتوں کا ذکر بھی ہے، یہ سب کسی ایک ہی خواب کی مختلف سمتیں اور کسی ایک ہی خیال کےمختلف راستےہیں جو ایک دوسرےمیں گم ہو ہو کر بار بار نکل آتےہیں، نیناں نےاسی رستےکو اپنےلئے منتخب کیا ہےاور اسی سےوابستگی نبھاتےہوئےوہ زندگی کا سفر کررہی ہیں، کہتی ہیں : زندگی کےہزار رستےہیں میرےقدموں کا ایک رستہ ہے ایک اور جگہ کہتی ہیں:
ان بادلوں میں روشن چہرہ ٹہر گیا ہے
آنکھوں میں میری کوئی جلوہ ٹہر گیا ہے
آنکھوں کی سیپیاں تو خالی پڑی ہوئی ہیں
پلکوں پہ میری کیسےقطرہ ٹہر گیا ہے
کیسا عجب سفر ہےدل کی مسافتوں کا
میں چل رہی ہوں لیکن رستہ ٹہر گیا ہے
نیناں کی شاعری اپنےلفظی پیکر تراش رہی ہیں ، لفظ لفظ سےگلےمل رہےہیں، تراکیب وضع ہورہی ہیں، شعری زبان اپنےخدوخال ترتیب دینےلگی ہے، اس تمام اظہار میں یادوں اور خیالوں کی دھنک بھی ہےاور سچ کی خوشبو بھی ۔۔۔۔
یہ سب شاعر کےاندر کی دنیا ہے، اس میں ابھی خواہش کی دنیا کے رنگ کم کم ہیں، فرزانہ وطن سےدور ایک ایسےدیار میں رہتی ہیں، جہاں زندگی اور اس کےمختلف مظاہر ہماری اس روایتی دنیا سےبہت آگےکےہیں، وہ یقیناََ ایک جدید معاشرےکےبہت سےپسندیدہ اور نا پسندیدہ مناظر سےگزرتی ہوں گی، سماجی مسائل کی نوعیت بھی مختلف ہوگی، زندگی کےبہت سےپہلو اپنی جانب متوجہ کرتےہوں گے، نیناںکی خوبصورت سوچوں کےلا متناہی سلسلوں نےان کےلہجےکو بہت سی تلخیوں سےبچا رکھا ہے، مگر پھر بھی ان کےیہاں شکوےکےانداز میں بہت نرمی کےساتھ کچھ اس
طرح کی کیفیات کا اظہار گونجتا ہے:
ابر بھی جھیل پر برستا ہے
کھیت اک بوند کو ترستا ہے
احتیاطاََ ذرا سا دور رہیں
اب تو ہر ایک شخص ڈستا ہے
نیناں کا ذہن اس اعتبار سےبہت زرخیز ہےکہ ان کےپاس بات کو اپنےانداز میں کہنےکی خواہش جھلکتی ہےاور خیالات و مضامین میں ایک نئےپن کی جستجو نمایاں ہے: اداسیوں کےعذابوں سےپیار رکھتی ہوں نفس نفس میں شبِ انتظار رکھتی ہوں کہاں سےآئےگا نیلےسمندروں کا نشہ میں اپنی آنکھ میں غم کا خمار رکھتی ہوں مثالِ برق چمکتی ہوں بےقراری میں میں روشنی چیکی لپک برقرار رکھتی ہوں مجھےامید ہےنیناں اپنی نظموں اور غزلوں کےاس ا سلوب اور لب و لہجےکو مزید نکھارنےمیں کامیاب ہوں گی اور جس عہد میں وہ زندہ ہیں اور جس تہذیب کےدرمیان رہ رہی اور بس رہی ہیں وہاں کی زندگی کےتازہ تر مشاہدات اور تجربات کےبارےمیں بھی لکھیں گی۔
پروفیسر شاہدہ حسن

Roshni ki Taza Lapak-Professor Jazib Qureshi

روشنی کی تازہ لپک
عرب امارات ،برطانیہ، امریکا، کینیڈا کےدرمیان جو پاکستانی اپنےاپنےدائروں میں رہ کر تہذیبی و ثقافتی روایات کےساتھ ساتھ اردو زبان کی نئی تاریخ رقم کر رہےہیں ان میں نوٹنگھم میں آباد فرزانہ خان نیناں بھی شامل ہیں
نوٹنگھم میں فرزانہ نےایک ادبی اور ثقافتی تنظیم’بزمِ علم و فن‘ کےتحت اردو کا چراغ جلایا ہوا ہےجس کےزیرِ اہتمام مشاعری، جلسےاور مختلف ادبی و سماجی تقریبات ہوتی رہتی ہیں اور پاکستان سےجانےوالےاستفادہ کرتےرہتےہیں
فرزانہ نےاپنی شاعری اور اپنی ذات کےحوالےسےجو کچھ خود لکھا ہےوہ اپنی نوعیت میں نیا بھی ہےاور ان کی شاعری کےپس منظر کو سمجھنےمیں مدد بھی دیتا ہے۔،
وہ لکھتی ہیں کہ ’میری شاعری میرےبچپن اور جوانی کی کائنات کےرنگوں میں ڈھلی ہےاور نیلگوں وسیع و عریض آسمان میری شاعری کا کینوس ہے،
میری شاعری ایک ایسی دنیا ہےجہاں میں کچھ پل کےلئےسب کی نظروں سےاوجھل ہوکر شہرِ سبا کی سیڑھیاں چڑھتی ہوں۔۔۔۔‘
فرزانہ نےشاعری کےلئےجس دنیا کا انتخاب کیا ہےوہ نئی توہےموسم اور ان موسموں کےرنگ تازہ اور خوبصورت ضرور ہیں لیکن اس دنیا کی اور شکل بھی ہی،
فرزانہ محبتوں کی شاعرہ ہیں، ان میں جدید انفرادیت کی علامت بننےکا سارا ہنر موجود ہی،
فرزانہ کا مشاہداتی تخیل ایسی روشنیوں کےساتھ سفر کرتا ہےجو زمانوں کی گردشوں میں ہےاور انہیں پہچاننےکا ہنر بھی جانتا ہے،
فرزانہ پرانےاور نئےوقت کےچہروں میں تازہ مماثلتیں اور جدید شباہتیں تلاش کر لیتی ہیں، اس طرح ان کےلئےانسانی تاریخ اور اعلیٰ قدریں تسلسل کےساتھ ایک ہی زندگی کی داستان بن گئی ہیں،
اپنےجسم و جاں کی محبتوں کو جس انداز میں فرزانہ نےلکھا ہےوہ انداز دیارِ غیر میں آباد پاکستانی شاعرات میں کم ہی نظر آئےگا،
فرزانہ نےمحبوب سےاپنےوجود کو اور اپنےوجود سےمحبوب کی یادوں کوجس طرح وابستہ کر رکھا ہےاس کی
چند مثالیں دیکھئے:
آسماں کےرنگوں میں رنگ ہےشہابی سا
دھیان میں ہےوہ چہرہ ایک ماہتابی سا
حرف پیار کےسارےآگئےتھےآنکھوں میں
جب لیا تھا ہاتھوں میں چہرہ وہ کتابی سا
پارس نےدفعتاََ مجھےسونا بنا دیا
قسمت سےآج ہوگئی سرمایہ دار میں
فرزانہ کےجسم و جاں پر محبتوں کےاثرات کو مختلف کیفیت میں دیکھا جا سکتا ہے :
بدن نےاوڑھ لی ہےشال اس کی
ملائم، نرم، مخمل ہوگئی ہوں
کسی کےعکس میں کھوئی ہوں اتنی
خود آئینےسےاوجھل ہوگئی ہوں
اشکوں کےپانیوں میں اترا کسی کا چہرہ
بہتا ہوا اچانک دریا ٹہر گیا ہے
کیسا عجب سفر ہےدل کی مسافتوں کا
میں چل رہی ہوں لیکن رستہ ٹہر گیا ہے
بسی ہےیاد کوئی آکےمیرےکاجل میں
لپٹ گیا ہےادھورا خیال آنچل میں
اُسی چراغ کی لوَ سےیہ دل دھڑکتا ہے
جلائےرکھتی ہوں جس کو شبِ مسلسل میں
درختوں کےسبز پتوں کےدرمیان،محبتوں کی بچھڑی آوازیں سنائی دیتی ہیں اور یادوں کا چراغ تنہائیوں میں جلتا رہتا ہے، پھر اس چراغ کےاجالےمیں محبوب سےملنےاور گفتگو کرنےکا موسم بھی اتر آتا ہے، ایسا مکالمہ شاعری میں ڈرامائی عناصر کی تخلیق کرتا ہےاور زندگی کےروز وشب میں پیش آنےوالےمعاملات و تجربات فنی و تخلیقی اظہار بن جاتےہیں، اس حوالےسےفرزانہ کی باتیں سنی جاسکتی ہیں:
پھرتی ہےمیرےگھر میں اماوس کی سرد رات
دالان میں کھڑی ہوں بہت بےقرار میں
جی چاہتا ہےرات کےبھرپور جسم سے
وحشت سمیٹ لوں تری دیوانہ وار میں
شام ڈھلنےسےمجھےدیکھ سحر ہونےتک
کیسےامید کو ارمان بناتی ہوں میں
روز دیکھا ہےشفق سےوہ پگھلتا سونا
روز سوچا ہےکہ تم میرےہو میرےہونا
یہ دیکھ کتنی منور ہےمیری تنہائی
چراغ بامِ مژہ پر ہزار رکھتی ہوں
مثالِ برق چمکتی ہوں بےقراری میں
میں روشنی کی لپک برقرار رکھتی ہوں
تتلیاں ہی تتلیاں ہیں تم جو میرےساتھ ہو
دلنشیں موسم ہےجیسےدھوپ میں برسات ہو
یادوں اور ملاقاتوں کےبعد محبتوں کےدرمیان آباد رہنےکا ایک تیسرا امکان بھی ہےجسےشاعری کی زبان میں خود کلامی بھی کہا جاتا ہے، خود کلامی ایک ایسی داخلی گفتگو ہےجس میں کوئی تخلیق کار یا کوئی عام شخص اپنےآپ سےباتیں کرتا ہےان باتوں میں بچھڑےہوئےلمحوں کی بازیافت کو لفظوں میں پکارا جاتا ہےیا امکانی زمین و آسمان کا تذکرہ ہوتا ہے:
میرےچہرےمیں چمکتا ہےکسی اور کا عکس
آئنہ دیکھ رہا ہےمجھےحیرانی سے
ممکن ہےاس کو بھی کبھی لےآئےچاندرات
کچھ پھول سونےگھر میں کبھی رکھ دیا کرو
مری خا مشی میں بھی اعجاز آئے
کسی سمت سےکوئی آواز آئے
چاند رکھا ہےکہیں دھوپ کہیں رکھی ہے
رہ گیا ہےمرےگھر میں ترا ساماں نیناں
تلاش بستی میں کرتا ہےجس کو شہزادہ
وہ مورنی کسی جنگل نےپال رکھی ہے
عورت کی اہمیت اور اس کی بےتوقیری کےدرمیان بہت سی پرچھائیاں، بہت سی دیواریں کھڑی ہیں، ترقی یافتہ قومیں عورت کےلئےوہ سب کچھ کر چکی ہیں جس نےوہاں کی نسائی دنیا کو انفرادی اور اجتماعی طور پر مادر پدر آزادی کا حق دار بنادیا ہے، ترقی پذیر قوموں میں یا تیسری دنیا کےدرمیان عورت کےپورے پن کو ماننےکی آوازیں تیز تر ہوتی جارہی ہیں، عورت کی آزادیوں اور اس کی بنیادی ضرورتوں کےلئےانسانی تاریخ نےجس چیز کو اور جس نا انصافی کو لکھا ہےاس کےسامنےعدل کی ترازو تو رکھنی پڑےگے،
فرزانہ نےکوئی نعرہ تو نہیں لگایا اور عورت کی طرف سےفرزانہ کےہاتھوں میں انقلاب یا بغاوت کا کوئی جھنڈا بھی نہیں ہےمگر انہوں نےعورت کےاجتماعی اور انفرادی دکھوں تک اپنےقلم کےسفر کو بڑھایا ضرور ہے،
اجتماعی عورت کےبارےمیںچند مثالیں دیکھئے:
عورت کا ذہن مرد کی اس کائنات میں
اب تک ہےالجھنوں کا نشانہ بنا ہوا
قبیلےکےخنجر بھی لٹکےہوئےہیں
کھڑی ہیں جہاں لڑکیاں دل کو ہارے
انگلیوں سےلہو ٹپکتا ہے
پھر بھی کلیاں پروئےجاتی ہیں
سب اختیار اس کا ہےکم اختیار میں
شاید اسی لئےہوئی بےاعتبار میں
تھل سےکسی کا اونٹ سلامت گزر گیا
راہَ وفا میں رہ گئی مثلِ غبار میں
بدن کی چٹانوں پہ کائی جمی ہے
کہ صدیوں سےساحل پہ تنہا کھڑی ہوں
خلا سےمجھےآرہی ہیں صدائیں
مگر میں تو پچھلی صدی میں جڑی ہوں
فرزانہ کا خیال ہےکہ عورت کی روح کیسےمضبوط ہو سکتی ہےجبکہ اس کا جسم ہی کمزور بنایا گیا ہے، مگر عورت کربِ ذات کو نئی زندگی کی ایک سچی خوشی سمجھتی ہے، فرزانہ جب اپنےذاتی تجربوں کو اظہار میں لاتی ہیں تو وہ بہت سی دوسری عورتوں کا بیانیہ بھی بن جاتی ہیں
سزا بےگناہی کی بس کاٹتی ہوں
کہاں مجھ کو جینےکےانداز آئے
وہ جن کی آنکھ میں ہوتا ہےزندگی کا ملا ل
اسی قبیلےسےخود کو ملانا چاہتی ہوں
میری تقدیر سےوہ بابِ اثر بند ملا
جب دعاؤں کےپرندوں نےاترنا چاہا
دھوپ گر نہ صحرا کےراز کہہ گئی ہوتی
میں تو بہتےدریا کےساتھ بہہ گئی ہوتی
بام و در ہیں ترےاشکوں سےفروزاں نیناں
گھر میں اچھا نہیں اس درجہ چراغاں نیناں
لگتا ہےمجھ کو میں کسی مردہ بدن میں تھی
جینےکا حوصلہ جو ملا اجنبی لگا
فرزانہ کہتی ہیں کہ عورت نےگھر کےآنگن کو زندگی کی نرم اور گرم دھوپ سےبھر دیا ہےلیکن آنکھوں کےآبشار بارشوںکی تمثیل بنےہوئےہیں، عورت کی محبتوں کا آنچل فرزانہ نے آرزوؤں کےستاروں سےبھرا ہوا ہے، وہ ابھی اپنےآنچل پر کچھ تازہ ستارےٹانکنا چاہتی ہے،
فرزانہ نےعورت کےانفرادی اور اجتماعی حوصلےکو بڑھانا چاہا ہے، انھوں نےلکھا ہےکہ:
خیال رکھنا ہےپیڑوں کا خشک سالی میں
نکالنی ہےمجھےجوئےشیر جنگل میں
قدم روکتا کب سیہ پوش جنگل
امیدوں کےجگنو اُڑائےتو ہوتے
سمندر کو صحراؤں میں لےکےآتی
کچھ انداز اپنےسکھائےتو ہوتے
پہنچتی اتر کر حسیں وادیوں میں
پہاڑوں پہ رستےبنائےتو ہوتے
درد کی نیلی رگیں پڑھتےہوئےایک ایسا تجربہ سامنےآیا ہےجو ہمارےعہد کی شاعری میں کم موجود ہے، ہر دور کی علامت سازی میں زیادہ یا کم روزمرہ زبان کو اور موجود زندگی کی اشیاءکو شامل کیا جاتا رہا ہے، فرزانہ کی شاعری میں بھی بہت سی ایسی چیزوں کا تذکرہ آیا ہےجو شہر اور گاؤں کی بھی نمائندگی کرتےہیں اور رہن سہن کی پہچان ہیں، شہر کےحوالےسےچند اشیاءکو شاعرانہ انداز میں دیکھئے:
تمہیں گلاب کےکھلنےکی کیا صدا آتی
تمہارےگرد تو ہر وقت صرف پیسا ہے
نجانےکیسےگزاروں گی ہجر کی ساعت
گھڑی کو توڑ کےسب بھول جانا چاہتی ہوں
اوڑھےپھرتی تھی جو نیناں ساری رات
اس ریشم کی شال پہ یاد کےبوٹےتھے
سیب اور چیری تو روز لےکےآتی ہوں
اپنےسندھڑی آموں کو بھول بھول جاتی ہوں
شوخ نظر کی چٹکی نےنقصان کیا
ہاتھوں سےجب چائےکےبرتن چھوٹےتھے
فرزانہ کی شاعری میں گاؤں کی زندگی، وہاں کےموسم اور وہاں کی ضروری اشیاءکا جو اظہار ملتا ہےایک طرف تو پرانی اقدار اور پرانی ثقافت کو سامنےلاتا ہےاور دوسری طرف وہ انسان بھی نظر آجاتےہیں جو صدیوں
سےاپنےمحدود وسائل کےساتھ ایک ہی کروٹ جیئےجا رہےہیں۔
اُسےجو دھوپ لئےدل کےگاؤں میں اترا
رہٹ سےچاہ کا پانی پلانےوالی ہوں
میں سینت سینت کےرکھےہوئےلحافوں سے
تمہارےلمس کی گرمی چرانےوالی ہوں
کان میں میں نےپہن لی ہےتمہاری آواز
اب مرےواسطےبیکار ہےچاندی سونا
روز آجاتی ہوں کمرےمیں ہوا کی صورت
کنڈی کھڑکائےبغیر اس سےچراتی ہوں اسے
کوئی بھی نہ دیوار پر سےپکارے
مگر ذہن یادوں کےاُپلےاتارے
ملےگی میری بھی کوئی نشانی چیزوں میں
پڑی ہوئی ہوں کہیں میں پرانی چیزوں میں
مرےوجود سےقائم ہیں بام و درمیرے
سمٹ رہی ہےمری لا مکانی چیزوں میں
بہشت ہی سےمیں آئی زمین پر لیکن
شمار میرا نہیں آسمانی چیزوں میں
یہ جانتےہوئےکوئی وفا شناس نہیں
بسر ہوئی ہےمری زندگانی چیزوں میں
میں نےفرزانہ کی نظمیں بھی پڑھی ہیں، ان نظموں میں’دریائےنیل، پگلی، پتھر کی لڑکی، سوندھی خوشبو، آخری خواہش، پہلی خوشی، ناریل کا پیڑ، اور ماں جیسی نظمیں خوبصورتی کےساتھ لکھی گئی ہیں اور احساس و خیال کو زندگی کی سچائیوں سےجوڑ دیتی ہیں،
فرزانہ کی شاعری پڑھتےہوئےان کےکچھ ایسےاشعار بھی سامنےآئےجو بہت حد تک نئی امیجری کےساتھ لکھےگئےہیں، میں چاہتا ہوں کہ انھیں پڑھا یا سنا جائےتاکہ شاعری کےپڑھنےوالےیکسانیت سےنکل کر ذرا مختلف موسموں کےدرمیان بھی آسکیں:
شوخ بوندوں کی طرح جاکےاٹک جاتےہیں
جسم کی کوری صراحی میں چمکتےموسم
رات کےخالی کٹورےکو لبالب بھر کے
کس قدر خوشبو چھڑکتےہیں مہکتےموسم
صبح کےروپ میں جب دیکھنےجاتی ہوں اسے
ایک شیشےکی کرن بن کےجگاتی ہوں اسے
بخش دیتی ہوں مناظر کو روپہلا ریشم
جسم کو چاندنی کا تھان بناتی ہوں میں
نیلگوں جھیل میں ہےچاند کا سایہ لرزاں
موجِ ساکت بھی کوئی آئےسنبھالےاس کو
کیسا نشہ ہےسرخ پھولوں میں
تتلیاں گل پہ سوئےجاتی ہیں
زلف کو صندلی جھونکا جو کبھی کھولےگا
جسم ٹوٹےہوئےپتےکی طرح ڈولےگا
فرزانہ کی شاعری میں تصویروں کےعکس دیکھ کر لگتا ہےکہ ہم شاعری نہیں پڑھ رہےبلکہ کسی نئےمصور کی آرٹ گیلری سےگزر رہےہیں، انھوں نےخود لکھا ہےکہ ’ شاعری کےرموز و اوقاف اور اوزان و بحور وغیرہ پر مہارت کا مجھےکوئی دعویٰ نہیں، میری تشبیہات و استعارات کسی سےنہیں لئےگئےکہ مجھےاپنی مرضی کےالفاظ کا تانا بانا بننا اچھا لگتا ہے‘ ایک شاعرہ کی حیثیت سےفرزانہ نےاپنی بنیادی سچائی کو ظاہر کر دیا ہے، انھوں نےدوسری بےشمار لکھنےوالیوں کی طرح بننا پسند نہیں کیا بلکہ آزاد پرندےکی طرح کھلےآسمانوں میں
اپنی اُڑان کو اہم سمجھا ہے،
فرزانہ کی شاعری پڑھتےہوئےکچھ نامانوسیت کا جو احساس ہوتا ہے وہ اس جیسی تمام شاعری کی تازگی کا جواز بھی ہے، ان کی شعری زبان تخلیقی ہےاور مادری زبان سندھی ہے، ان کےتصوراتی پس منظر میں سندھ کا گاؤں بولتا ہےاس حوالےسےکہا جا سکتا ہےکہ فرزانہ خان نےاردو مادری زبان والی کئی دوسری شاعرات سےزیادہ نئی اور زیادہ تازہ زبان لکھی ہے۔
فرزانہ کی شعری جمالیات، لفظیات اور امیجز خوبصورتی و اثر پذیری کےساتھ اظہار میں آئی ہیں ، پاکستان کی تہذیبی و ثقافتی اور ادبی و معاشرتی رویوں کےساتھ فرزانہ خان جڑی ہوئی ہیں، وہ آباد تو دیارِ غیر میں ہیں مگر ان کی یادوں میں اپنےوطن کےموسموں کےرنگ اور اپنی مٹی کی خوشبوئیں بسی ہوئی ہیں، وہ سوتی تو نوٹنگھم میں ہیں مگر خواب پاکستان کےدیکھتی ہیں۔۔۔۔
اس بات سےحد درجہ وطن کی محبت کا اظہار ہوتا ہےلیکن ایک اہم تخلیق کار ہونےکی حیثیت میں برطانیہ میں گزرنےوالی زندگی، وہاں درپیش سماجی رویوں اور انسانی قدروں کا اظہار بھی فرزانہ کی شاعری میں ہونا چاہیئےتاکہ ان کو پڑھنےوالےایک مختلف کلچر سےاور اس کےایسےمعاملات و واقعات سےبھی روشناس ہوسکیں۔
فرزانہ خان کی شاعری میں رقت آمیز، خود رحمی یا قنوطیت جیسےغیر متحرک اور غیر فعالی رویئےنہیں ہیں بلکہ شکستہ خواب و خواہش کی سچائیاں اور عورت کےاجتماعی و انفرادی دکھوں کا اجلا پن ان کےہر اظہار میں موجو د ہے،
وہ جسم و جاں کےتجربوں کو سالمیت و سلامتی کےساتھ لکھ کر سامنےلائی ہیں انہوں نےاشیاءکےذریعےاپنی تازہ امیجری کےتعلق سےجو نسائی آئیڈیل بنایا ہےوہ اس میں کامیاب نظر آتی ہیں، فرزانہ نےلکھا ہےکہ ’میری شاعری بچپن سےجوانی تک کی شاعری ہے‘ میں فرزانہ کی اس شاعری پر انہیں مبارکباد دیتا ہوں اور یقین کر سکتا ہوں کہ فرزانہ کی شاعری کا اگلا قدم زندگی کےزیادہ سنجیدہ، زیادہ اہم اور زیادہ گہرےتجربوں کی سمت بڑھےگا جو ان کو جلترنگ سےہو ترنگ کی طرف لےجائےگا،
فرزانہ میں جدید انفرادیت کی علامت بننےکا سارا سامان موجود ہے۔
جاذب قریشی کراچی