Farzana Khan is an Author of Urdu Poetry and Prose, globally known under the name *Naina*.
Showing posts with label Pakistani Poetess. Show all posts
Showing posts with label Pakistani Poetess. Show all posts
Tuesday, March 11, 2008
Monday, March 10, 2008
Thursday, May 31, 2007
Monday, May 21, 2007
Tuesday, January 23, 2007
Sunday, December 24, 2006
Friday, October 27, 2006
Thursday, June 29, 2006
Friday, June 23, 2006
Neeli Chandni-تمناؤں کی نیلی چاندنی میں
Tammanaon ki neeli chandni mein
Kahan ho tum hamari zindagi mein
Kahan in surkh pholon ko chupaon
Udaasi hal na ho jaye khushi mein
Tere alfaaz hain anmol tohfey
Jo dhalte ja rahe hain shayeri mein
Mera foto saja kamre mein uskey
Yakayak ho gai kitni barri mein
Meri sochon ka darya kaise murrta
Kahan tum jaisi gehrai kisi mein
Zara baarish ki be-baaki to dekho
Chamma cham aa gai meri hansi mein
Sawaal uski anna ka aa gaya tha
Jawaban likh diya naina sabhi mein
Labels:
Farzana Naina,
Ghazal,
Pakistani Poetess,
Urdu Poetry
Tuesday, June 06, 2006
Saturday, June 03, 2006
Friday, June 02, 2006
Thursday, June 01, 2006
Wednesday, May 31, 2006
Khush Awaz Peshkaar.-Aqeel Danish
تذکرہ کتابوں کا
۔۔۔”درد کی نیلی رگیں“ ۔۔۔
فرزانہ خان نیناں ہوا کےدوش پر سنی جانےوالی آواز
”فرزانہ خان نیناں“ بڑی پہلو دار شخصیت کی مالک ہیں،
خوش آوازپیشکار، خوش فکر شاعرہ اور پُر اَثر کہانی کار،
اپنی شعری کاوشوں کو انہوں نے”درد کی نیلی رگوں“ کےنام سےاردو دنیا کی نذر کیا ہے،
یہ شعری مجموعہ بلا مبالغہ مغرب میں شائع ہونےوالی کتابوں میں ایک خوبصورت ترین کتاب ہے،
اسےیہ خوبصورتی اور نفاست عطا کرنےمیں فرزانہ نےجو کاوشیں کی ہوں گی ان کا احساس وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہوں نےاپنی تخلیقات کتابی شکل میں منضبط کی ہیں،
فرزانہ نیناں نےاس مجموعےکو نہ صرف صوری شکل ہی میں منفرد نہیں بنایا ہےبلکہ معنوی سطح پر بھی انفرادیت عطا کی ہے،
اس مجموعےمیں شامل غزلیں اور آزاد نظمیں اپنےاندر فکر و معانی کا ایک جہان لئےہوئےہیں اور قابلِ قدر اَمر یہ ہےکہ یہ جہان
فرزانہ نیناں نےخود بسایا ہے
ان کےہر مصرع اور ہر شعر پر ان کےرنگ کی چھاپ ہے، یہ اعزاز اور یہ افتخار بہت کم سخنوروں کو نصیب ہوتا ہے۔
نیناں کےبسائےہوئےاس جہان میں رنگ ہے، خوشبو ہے، چاندنی ہے، موسیقی ہے، جھرنوں کا ترنم ہے، پرندوں کی چہچہا ہٹ ہےاور اشکوں کے موتی ہیں،
آپ بھی اس جہان پر ایک نظر ڈالیئے---
-------------
مثالِ برگ میں خود کو اڑانا چاہتی ہوں۔
ہوائےتند پہ مسکن بنانا چاہتی ہوں
روز دیکھا ہےشفق سےوہ پگھلتا سونا
روز سوچا ہےکہ تم میرےہو میرےہو نا
میں اپنےدل کی گواہی کو کیسےجھٹلاوں
جو کہہ رہا ہےمرا دل وہ بلکل ایسا ہی
کسی کےعکس میں کھوئی ہوں اتنی۔
خود آئینےسےاوجھل ہوگئی ہوں
ممکن ہےاس کو بھی کبھی لےآئےچاند رات
۔کچھ پھول سونےگھر میں کبھی رکھ دیا کرو
زندگی کےہزار رستےہیں
میرےقدموں کا ایک رستہ ہی
نیناں اُڑی جو نیند تو اک جانفزا خیال۔
۔۔خوشبولگا۔۔بہار لگا۔۔۔روشنی لگا
بتاو آگ بجھانےکوئی کہاں جائے۔۔
۔لگائےآگ اگر ماہتاب پانی میں
نیناں کا لہجہ خالص نسائی ہے، ان کا اور پروین شاکر کا تعلق ایک ہی درسگاہ سےرہا ہے ممکن ہےکہ شعوری یا غیر شعوری طور پر انہوں نےپروین شاکر کےرنگ
سےتاثر حاصل کیا ہو، چند مثالیں دیکھئے
-----------
میری خاموشی کو چپکےسےسجادو آکر۔
۔۔اک غزل تم بھی مرےنام کبھی لکھونا
اسےجو دھوپ لئےدل کےگاؤں میں اترا۔
۔۔رہٹ سےچاہ کا پانی پلانےوالی ہوں
بدن نےاوڑھ لی ہےشال اس
کی۔۔۔ملائم ، نرم، مخمل ہوگئی ہوں
پیار کی کہانی میں سچ اگر ملےنیناں
عمر باندھ لیتی ہیں لڑکیاں وفاوں سے
-----------------
غزلوں کی طرح نیناں
کی نظموں میں بھی ایک خاص رنگ اور انداز ہی، جسےنیناں کا رنگ کہا جا سکتاہے۔
”درد کی نیلی رگیں“ میں نہ معاشرےکی
بےانصافی کاشکوہ ہےنہ ظلم و ستم پر واویلا ، نہ معاش کا رونا ہے، نہ مشین کی کرخت آوازوں کا ماتم، اس میں تو عشق کی تپش ، محبت کی آنچ ہے، وفا کی خوشبوہےاور آنچل کی ٹھنڈی ہوا۔۔۔!
ہمیں یقین ہےکہ اس زر گزیدہ فضا میں نیناں کی شاعری تھوڑی
دیر کےلئےہی سہی اُس جہان میں لےجائےگی جہاں چاند ستارےاور جگنو انسان کے تاریک دل کو اُجال دیتےہیں۔
------------
تبصرہ نویس:عقیل دانش، لندن
---------
کتاب ملنےکا پتہ: ای میل کےذریعے
:farzananaina@yahoo.co.uk قیمت: ٨ پونڈ
--------
ناشر: لوحِ ادب پبلیکیشنز، کراچی
Labels:
Aqeel Danish,
Articles,
London,
Nottingham,
Pakistani Poetess,
Poetry,
Presenter,
Radio,
Review,
Urdu
Mumtaz Ahmed-Birmingham
نذرانہ عقیدت بحضور محترمہ فرزانہ خان نیناں
***
کشور نہیں ادا نہیں زہرہ نگاہ نہیں
فرزانہ خاں ہیں خود غزل اس میں شبہ نہیں

درد کی نیلی رگیں ان کی نئی ہےاک کتاب
کیا شاعری کا د لربا اک سلسلہ نہیں
٭** ممتاز احمد۔۔۔برمنگھم ٭٭٭
Labels:
Birmingham,
Mumtaz Ahmed,
Nottingham,
Pakistani Poetess,
Qitta,
Urdu Poetry
Subscribe to:
Posts (Atom)