Thursday, October 12, 2006

A Telephone

''ایک فون''
ہیلو، ہاں، میں بول رہی ہوں۔۔رضیہ کی بچی، آج اتنے دنوں بعد فون کیا ہے۔۔۔
تیری ہنسی سے پہچان پائی ہوں۔۔بکواس مت کر۔۔۔بہت کنجوس ہوتی جا رہی
ہے۔۔ارے جا ، میں کیوں بتاؤں۔۔۔۔۔ہیں؟ کیا کہا؟۔۔۔۔خود کیوں نہیں آیا جاتا۔۔۔میں کیوں
بتاؤں ناصرہ کی باتیں۔۔۔۔بڑی چالاک ہو تم۔۔۔۔تمام باتیں سن کر چار سے ضرب دے کر
آگے بڑھا دوگی اور میرا نام روایت کے طور پر ہراول دستے کی طرح آگے بڑھتا
جائے گا۔۔۔۔پہلے بھی تم نے لوگوں کے ساتھ میرے تعلقات خراب کروائے تھے۔۔۔۔اب
بھوری خالہ صرف تمہاری وجہ سے مجھے چائے تک کو نہیں پوچھتیں۔۔۔۔چلو
پہلے میری جان کی قسم کھاؤ اور منگیتر کی بھی قسم کھاؤ۔۔۔۔ ہاں سنو، ناصرہ بیگم
عید پر ہمارے گھر آئی تھیں، جامنی سوٹ پر ستاروں سے بنی تتلی سینے پر پنکھ
پھیلائے جانے اڑ رہی تھی یا اڑ چکی تھی کہ ان کی نظریں بار بار اپنی شرٹ کی
تتلی پر ہی پڑ رہی تھیں
دوپٹےموتئے کی بیلیں جو سفید ستاروں سے بنی ہوئی تھیں دوپٹے پر آڑی آڑی
ڈلی ہوئی تھیں،کمر پر بھی دو چار بڑے بڑے ستارے ٹنکے ہوئے تھے،
بڑے عرصے بعد ان کو یوں سجا بنا دیکھا،تھوڑا سا کریدا تو معلوم ہوا کہ آجکل
اپنے بیٹے کے لئے لڑکی دیکھنے کے مشن پر ہیں، اب کون ان سے کہتا کہ آجکل
کی لڑکیاں چھمک چھلو ٹائپ کی ساس کو کہاں پسند کرتی ہیں بڑی
ممانی کی لڑکیاں ان سے خاصے چھچھورے مذاق کر رہی تھیں۔ کہہ رہی تھیں کھ
مجھے ہنسنے بولنے والی لڑکیاں اچھی لگتی ہیں، ہیلو، تم ہنس رہی ہو؟
آواز کیسی ہوگئی ہے تمہاری؟ہاں ہاں ،مجھے بھی بہت ہنسی آئی تھی کہ اگر ایسی
ہنسنے بولنے والی ایک بھی ان کے گھر بہو کے روپ میں آجائے تو ان کا سارا
گھرانا ہنسنا بولنا بھول جائے گا۔۔۔ ہیلو،اے پھر ہنس رہی ہو تم ،کیا نزلہ ہوگیا ہے؟
یا پھر آواز خراب ہے تمہاری؟ تم نے سنا کہ چھمو کی بھی منگنی ہوگئی ہے
ہمارے ہاں تو لڈو بھی آئے تھے، لڈو دیکھ کر اندازہ ہورہا ہے کہ لڑکے کی مالی
حالت نہ صرف خراب ہے بلکہ وہ چال چلن کا بھی اچھا نہیں ہے،اے لڈوؤں میں
سےعجیب سی بھبھک آرہی تھی،لگ رہا تھا کہ سستے کے چکر میں سڑے ہوئے
لڈو خرید لئے گئے،موٹی خالہ کی ساس کہہ رہی تھیں کہ جاڑوں میں مٹھائی کبھی
نہیں سڑتی، وہ ہر چیز کھانے کے چکر میں ہر وقت رہتی ہیں نا، ہیلو، رضیہ، سب
سے اہم خبر تو سن لو، پرویز کی دلہن کا اس پکی عمر میں پیر بھاری ہوگیا ہے،
ان کی بہو تو فون کر کے یہ اطلاع سب جگہ بانٹ رہی ہے، بھئی بہوؤں کا پہلا کام
تو مذاق اڑانا ہوتا ہے نا، اچھی بہوئیں کس کو ملتی ہیں؟کہاں رہتی ہیں؟ کیسی ہوتی
ہیں؟ تمہیں تو آج تک پتہ نہیں چل سکا، لنگڑی چاچی کی بہو پرسوں آئی تھی، وہی
ننگا سا بلاؤز پہنے ہوئے، کالی سلمی کا پتہ نہیں کیا حال ہے؟ ان کے یہاں جانا ہی
نہیں ہوا ہے،اپنے بارے میں خاص خبر ابھی نہیں دے سکتی،طبیعت ٹھیک نہیں
ہے،منہ بھی کھٹا میٹھا سا ہو رہا ہے،خوامخواہ بہو کو دو چار تگڑی تگڑی گالیاں
دینے کو جی کرتا ہے،اے جب اسے گالیاں دو تو کمبخت معصوم سی بن کر
گھورنے لگتی ہے، کمینی کہیں کی، بہت حرافہ ہے کمبخت، ۔ ۔
ہیلو، رضیہ، تم پھرہنسیں؟ تمہاری آواز کو کیا ہوگیا ہے؟
تب، ایک مردانہ آواز ہنسی سے لبالب بھری ہوئی بولی خاتون آپ کی رضیہ
کی لائن تو کب کی کٹ چکی،ہاں، میں اپنے رانگ نمبر پرآپ کی دلچسپ باتیں سن
رہا تھا اور ہنس رہا تھا،آپ کا بہت بہت شکریہ،آج آپ کے طفیل میرے دو گھنٹے
بور ہونے سے بچ گئے۔

2 comments:

abbas said...

فرزانہ آپا بہت اچھا افسانہ ھے،بہت پسند آیا۔

Urdu Blog by F@rzana***نيناں*** said...

بھت شکریھ، مجھے آپ کا کامنٹ پڑھ کر بھت خوشی ہوئی، باقی تحریروں پر بہی تبصرہ لکیھئے گا۔