Showing posts with label Arts Council. Show all posts
Showing posts with label Arts Council. Show all posts

Wednesday, May 31, 2006

Arts Council Karachi---Naqqash Kazmi

نقاش کاظمی
معزز خواتین و حضرات، آپ نےہمیشہ ہی دیکھا ہےکہ جب باہر سےکوئی صاحبِ قلم تشریف لاتا ہےاور کتاب بھی اس کی بغل میں ہو تو ہم یہی کوشش کرتےہیں کہ وہ کتاب منظرِ عام تک پہنچے، آرٹس کونسل کےتوسط سےاس کی رونمائی ہوسکے، ایسی ہی یہ تقریب ہےجس میں، میں آپ تمام حضرات کو خوش آمدید کہتا ہوں، شکر گزار ہوں آپ کا کہ آپ یہاں تشریف لائے، محترمہ فرزانہ خان نیناں پہلےبھی کئی بار تشریف لائیں اور اس مرتبہ بھی قابلِ تحسین ہیں کہ ان کی تشریف آوری سےبڑی بڑی بزمیں سج رہی ہیں، رونقیں دوبالا ہورہی ہیں، اس کی وجہ یہ نہیں ہےکہ وہ فیشن کی شاعرہ ہیں بلکہ ان کا طرزِ بیاں،طرزِ سخن، ان کا نیا پن، اچھوتا پن بےشمار اشعار ایسےہیں کہ جن کو پڑھ کےآپ کو احساس ہوگا کہ یہ نئی نسل کس انداز میں سوچتی ہےاور کیا طرزِ سخن اختیار کئےہوئےہے، وجہ اس کی یہ ہوسکتی ہےکہ انھوں نےابتدائی تعلیم اور ثانوی تعلیم پاکستان میں حاصل کی اس کےبعد جب یہ بیرونِ ملک تشریف لےگئیں تو بہت ہی جدید علوم سےوابستگی انھوں نےحاصل کی، جن میں میڈیا کےبہت وسیع تر حوالےملتےہیں ٹیلی کمیونیکیشن میں اور اس میں بڑا نیا پن ملتا ہے، اس دنیا میں جب ادب داخل ہوتا ہےتو وہ نئی نئی جہتیں معلوم کرتا ہےاور جہتیں دکھاتا بھی ہے، جب ادب اور سائنس یکجا ہوں تو بڑےبڑےمضامین سامنےآتےہیں، بہت سےلوگوں نےدیکھا ہےکہ بڑےبڑےمضامین لکھےگئےلیکن اس جدید دور میں جب مائیکروویو کمیونیکیشن آجائے، جب سیٹیلائٹ کی لہریں نیا نیا سماں پیدا کرتی ہیں، ایک ایک بٹن دباتےہی ایک سےدوسرےملک تک پہنچ جاتےہیں، ایک سےدوسرا منظر بدلتا ہے، یہ منظر نامےاتنی تیزی سےبدلتےہیں کہ اس میں فرزانہ جیسی شاعرہ ہی بہت کامیابی سےسفر کر تی ہیں اور کر رہی ہیں، میری دعا ہےکہ ان کو کامیابی حاصل ہوتی رہے، یہ خود جب اشعار پیش کریں گی تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ ان کا کلام کتنا جدید اورمختلف ہے، میں شکر گذار ہوں ان کا کہ انھوں نےاپنی کتاب کی رسمِ اجراءآرٹس کونسل میں منعقد کروائی ہے، ان تمام بڑےلوگوں کی طرح جنھوں نےملک سےباہر جاکر غیر ممالک میں علم و ادب کی شمع روشن کی یہ ان کا بڑا پن ہےایک بڑا کارنامہ ہے، اردو زبان وادب کی خدمت کرنےوالوں میں ایک حصہ فرزانہ خان نیناں بھی ہیں کہ جو یہ مشعل روشن کئےہوئےہیں، میں انھیں اپنی نیک خواہشات اور مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
کراچی آرٹس کاؤنسل

Nisaee Lehja... Nazir Faruqi

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
پروردگار ہی نہیں ساری فضا ہےرنگیں آپ مہماں ہیں تو ہر چیز پہ رعنائی ہےدرحقیقت یہ رعنائی خیال کی ہی تقریب ہے، محترمہ فرزانہ نیناں منفرد لفظیات کو اپنی شاعری میں گوندھ کر ایک نیم طلسمی مالا تخلیق کرنےوالی شاعرہ ہیں،یہ بڑی خوشی کی بات ہےکہ آجکل ہماری بہت سی خواتین شاعری کی جانب مائل ہو رہی ہیں، ابھی تک ہمارے’مرد سالاری‘ رویوں نےہماری عورتوں کو بچوں اور باورچی خانےکےحصار میںقید رکھ کر جو گھٹن پیدا کر رکھی ہےاس کا اظہار برملاہورہا ہے،آج بھی اپنےکرب کا اظہار کرنےوالی خواتین کی تعداد ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے،مگر کم سےکم ان کےدرد کو سن کر ہمارےمعاشرےکو اپنےگریبان میں جھانکنےکی دعوت ضرور ملتی ہے، لڑکیوں کو شعر کہنےمیں ایک اور مشکل کا سامنا بھی ہےجس کی طرف ہماری بےبدل شاعرہ پروین شاکر مرحومہ اشارہ کر گئی ہیں کہ: اپنی رسوائی ترےنام کا چرچا دیکھوں اک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں جدید غزل گو زندگی کی تکلیف دہ حقیقتوں کےبیاں میں بھی شاعری کی لطافتوں کا دامن ہاتھ سےنہیں جانےدیتا ،حفیظ ہوشیار پوری کا شعر ہے: یہ تمیزِ عشق و ہوس نہیں،
یہ حقیقتوں سےگریز ہے جنھیں عشق سےسروکا ہےوہ ضرور اہلِ ہوس بھی ہیں ہمارےبچپن کےدوست سروربارہ بنکوی مرحوم نےبڑ ےسلیقےسےکہا
میں کسی صورت ترا کربِ تغافل سہہ گیا
اب مجھےاس کا صلہ دےحرف شرمندہ نہ ہوں
جب ایک عورت اپنےاحساس کی عکاسی کرنا چاہتی ہےتو سب سےپہلےاس کو اپنی شرمیلی طبیعت کا سامنا ہوتا ہے، حجاب کی دیواریں حائل ملتی ہیں، اپنےمخصوص لفظیات کی تلاش ہوتی ہےاور ان سب مراحل سےگزر جانا بڑےدل گردےکا کام ہے، شعر میں ظاہر کیا ہوا کرب قاری کےلیئےصرف اس وقت معنی رکھتا ہےجب وہ فن کےکسی بہترین سانچےمیں ڈھل جائے، دیکھیئےمحترمہ فرزانہ نیناں نےاپنی سوچ کےاظہار کےلیئےایک اچھوتا لہجہ اپنایا ہے:
تم عجیب قاتل ہو روح قتل کرتےہو
داغتےہو پھر ماتھا چاند کی رکابی سا
محترمہ فرزانہ نیناں بہت چھوٹی عمر میں برطانیہ چلی گئی تھیں اور اپنےساتھ روایتی ملبوسات و زیورات لے جانے کے بجائے اپنے رحجان کےمطابق مٹی کی خوشبو لیتی گئیں، اپنےبچپن کی یادوں، محرومیوں اور وعدہ خلافیوں کی کسک جو زندگی کا حصہ ہیں اس کو اپنےوجود میں رکھ لیا،اور تمام چیزوں کو اپنےذہن کےطاق پہ ہمیشہ سجائےرکھا، اپنی شاعری کے بارے میں خود فرماتی ہیں کہ ’جب والدین جنت الفردوس کو سدھارے، پردیس نےبہن بھائی چھین لئے، درد بھرےگیت روح چھیلنےلگےتو ڈائری کےصفحات کالےہونےلگے‘
آج انہیں صفحات پر بکھرےہوئےحروف ان کی شاعری کےجگنو بن گئےہیں، آپ کو جب گاؤں میں گذاری ہوئی تعطیلات کی یاد آئی تو اس کا بیاں اس طرح کیا: کوئی بھی نہ دیوار پر سےپکارے مگر ذہن یادوں کےاُپلےاُتارے :جب چنچل بچپن کی شرارتیں یاد آئیں تو یوں گویا ہوئیں
راہ میں اس کی بچھا دیتی ہوں ٹوٹی چوڑی
چبھ کےکانٹےکی طرح روز ستاتی ہوں اسے
: جب وعدہ خلافیوں کا شکوہ کیا تو یہ منفرد انداز اپنایا
لئےمیں بھی کچا گھڑا منتظر تھی
تم اس پار دریا پہ آئےتو ہوتے
آپ نےمحسوس کیا ہوگا کہ ان تمام شعروں میں مہندی کا رنگ اور خوشبو بسی ہوئی ہے، یہی ان کی اپنی آواز اور آہنگ ہے، ان کی اسی منتشر خیالی اور منفرد لفظیات کےسبب ان کےکلام کو دوسرےشعراءو شاعرات سےبڑی آسانی سےالگ کیا جا سکتا ہے،محترمہ فرزانہ خان نیناں ریڈیو پر رنگا رنگ پروگرام نشر کرتی ہیں، فعال پریزینٹر ہیں، ایک ادبی تنظیم کی روحِ رواں ہیں ، ان تمام گوناگوں مشاغل کےساتھ یہ بیوٹی کنسلٹنٹ بھی ہیں اور شاید اسی لئےآپ دیکھیں کہ انہوں نےاپنی کتاب کو ایک دلہن کی طرح ایک نئےانداز سےسنوارا ہے، اس دلہن کا سراپا دلکش، اس کا لباس دھنک رنگ، اس کےگہنوں میں دل لبھانےوالا انوکھاپن ہے، میری دعا ہےکہ ان کےمنتخب کیئےہوئےحروف کےیہ گہنےاس دلہن کےماتھےپہ ہمیشہ جھومر کی طرح دمکتے رہیں۔آمین۔
ناظر فاروقی 
کراچی